Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ملتان کا علمی چہرہ ۔۔۔ اصغر علی شاہ – شاکر حسین شاکرؔ

by نومبر 4, 2016 ادب
ملتان کا علمی چہرہ ۔۔۔ اصغر علی شاہ – شاکر حسین شاکرؔ
Print Friendly, PDF & Email

shakir-hussain-shakir۔20اکتوبر 2016 کی دوپہر مشتاق شیدا کا جنازہ پڑھتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ آج بعد نماز مغرب پروفیسر اصغر علی شاہ کا جنازہ بھی پڑھنا ہے۔ زندگی میں اس طرح کے تکلیف دہ لمحات کم ہی ہوتے ہیں کہ آپ ایک ہی دن اپنے ہاتھوں سے دو پیاروں کو رخصت کریں۔ پروفیسر سیّد اصغر علی شاہ کا نام اُن لوگوں کے لیے نیا ہو گا جو حرف و معنی سے دور رہتے ہیں۔ جن کا شاعری سے کوئی تعلق نہیں، جو فارسی، عربی،ہندی، سنسکرت اور بے شمار علوم سے دور رہے۔ اُن کے تخلیقی موضوعات کا اگر ہم سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کتاب ’’سنجیدہ مقالات‘‘ کے موضوعات اتنے مختلف ہیں کہ اس پر کم از کم مَیں نے اپنی پچاس سالہ زندگی میں کسی اور شخصیت کے مقالے نہیں دیکھے۔ علم الاصوات، النبر، علم العروض، قوافی، عیوب قوافی، قصیدہ اور الف لیلہ و لیلہ جیسے موضوعات پر لکھنا صرف ان کا ہی کام تھا۔ یہ مقالے علمی اعتبار سے اتنے اہم ہیں کہ ادب کے ہر طالب علم کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ خاص طور پر علم الاصوات پر ان کا مقالہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اس مقالے کے تخلیقی پس منظر کے بارے میں انہوں نے ایک مرتبہ ہمیں بتایا کہ وہ جب عربی زبان و ادب کے کورس کے سلسلے میں ریاض یونیورسٹی سعودی عرب گئے تو وہاں پر ایک اہم پرچہ علم الاصوات کا تھا۔ جس کو مصر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد کمال بشر نے پڑھانا تھا۔ ڈاکٹر محمد کمال بشر الازہر یونیورسٹی اور کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ کے فارغ التحصیل تھے اور کیمبرج یونیورسٹی سے ہی انہوں نے علم الاصوات کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کے سامنے جب ہم ’ث‘ کو ’س‘، ’ق‘ کو ’ک‘ اور ’ذ۔ض۔ظ‘ کو ’ز‘ سے بولتے تو وہ ہماری نہ صرف اصلاح کرتے بلکہ آوازوں کی مشق بھی موقع پر کراتے۔ وہاں سے آنے کے بعد مَیں نے سوچا کہ اس موضوع پر کچھ لکھنا چاہیے۔ اور نثری کام کے سلسلے میں میرا یہ پہلا مقالہ تھا جس کا موضوع ہی مَیں نے علم الاصوات رکھا۔ مَیں نے اپنے ناقص علم کی بنیاد پر اس مقالے میں عربی کے علاوہ فارسی، اُردو، ہندی اور سنسکرت اصوات کو بھی اکٹھا کر لیا۔ جس کے بعد مَیں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا۔ ڈاکٹر اصغر علی شاہ نہ صرف نثر بلکہ شاعری میں بھی مشکل موضوعات کو سامنے رکھ کر اپنی تخلیقات کو سامنے لاتے۔
ان کا شمار ملک کے اُن اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے مختلف زبانوں پر پہلے عبور حاصل کیا پھر اس کے بعد انہی زبانوں کے الفاظ کو اپنی شاعری میں استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں اُردو، عربی، فارسی، ہندی، سنسکرت، سرائیکی، پنجابی، ہریانوی اور اس خطے میں بولی جانے والی دیگر زبانوں کے الفاظ پائے جاتے ہیں۔ آغاز میں سیّد اصغر علی شاہ نے ’کلیم‘ تخلص کیا جس کو بعد میں انہوں نے اپنے نام سے ہٹا دیا۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ شاعری میں مجھ علمیت غالب ہے لیکن میرا علم بہت ناقص ہے۔ اس لیے غزل کی نسبت مَیں نظم کی طرف زیادہ راغب ہوتا ہوں۔ شاہ جی نے قصیدہ، پابند نظم، مسلسل غزل اور آزاد نظم کے علاوہ سلام، منقبت،مرثیہ اور نعت میں بھی قلم اٹھایا۔ وہ اس خطے میں حرف کی پہچان کرانے والے آخری آدمی تھے جن کو بیشمار زبانوں پر عبور تھا۔ رضی نے اُن کے بارے میں لکھا کہ ’’بے معنویت کے دور میں معنی بتانے والا اصغر علی شاہ خود اپنی زندگی کی معنویت کی تلاش میں رہا۔‘‘ وہ علم کے اعتبار سے ایسے درجے پر فائز تھے جہاں پر وہ طالب علموں کی اس لحاظ سے تربیت کرتے تھے کہ ان کی صحبت میں بیٹھنے کے بعد یہ احساس ہوتا تھا کہ ہم ایک بہت بڑے عالم کے ساتھ وقت گزار کر آئے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب حمد، نعت، منقب اور سلام پر مشتمل ’’پیامبر فجر‘‘ 1985ء میں خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران ملتان نے شائع کی۔ ان کی دوسری کتاب ’’سنجیدہ مقالات‘‘ 2007ء میں بزمِ ثقافت ملتان کے پلیٹ فارم سے منظرِعام پر آئی۔ جبکہ ان کا نامکمل کلام ’’کلیاتِ اصغر علی شاہ‘‘ کے نام سے دو مرتبہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے مختلف شعبوں نے شائع کیا۔ افسوس یہ ہے کہ ان کتابوں میں ان کا مکمل کلام شامل نہیں۔
شاہ صاحب کی خوبی یہ تھی کہ وہ شخصیات پر نظمیں بڑی خوبصورتی سے لکھتے تھے اور یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ شخصیت دنیا سے گزر گئی ہو۔ وہ دوستوں میں بیٹھنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ملتان کی ہر ادبی بیٹھک اور چائے خانے کے رکن تھے جہاں پر ملتان کے ادیب شاعر اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شاہ صاحب کی گفتگو کے منتظر رہتے تھے۔ شاہ صاحب درویش صفت انسان لیکن اپنے علم کے لحاظ سے اس شہر کے اتنے بڑے آدمی تھے کہ ان کے جانے کے بعد یہ شہر نہ صرف خالی ہو گیا ہے بلکہ اب ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ جب کبھی مستقبل میں کسی طالب علم کو عربی، فارسی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کے بارے میں کوئی بات دریافت کرنا ہو گی تو وہ کس کے گھر جا کے دستک دے گا۔ زندگی کے آخری دن تک وہ کتابوں کے ساتھ جڑے رہے۔ انہوں نے کبھی بھی شہر والوں سے اہمیت نہ دینے کا شکوہ نہ کیا۔ ملتان ٹی ہاؤس کی افتتاحی تقریب میں جب ان کو لائف ٹائم ممبرشپ دی گئی تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ اس کے بعد وہ گاہے گاہے ادبی بیٹھک اور ٹی ہاؤس تشریف لاتے۔ گزشتہ کئی سالوں سے انہوں نے اپنے گھر کے قریب ایک چائے خانے پر دوستوں کو اکٹھا کر رہے تھے۔ وہ سرِ شام وہاں چلے جاتے اور پھر رات گئے وہاں سے گھر آتے۔ درویشی کا عالم یہ تھا کہ اگر شلوار قمیض استری بھی نہیں ہے تو انہوں نے اپنے اس پہناوے پر کبھی شرمندگی محسوس نہیں کی کہ انہیں معلوم تھا کہ وہ دوستوں کی اس محفل میں جا رہے ہیں جہاں پر اصل موضوع شاعری، ادب اور لوگوں کے منفی رویے ہیں۔ موت سے ایک ماہ قبل ان کی بیٹی عنیزہ اور پروفیسر اقبال عباس نقوی مرحوم کے بیٹے پروفیسر ظفر عباس نقوی نے کلیات مرتب کیا۔ یقیناًان کی زندگی کی یہ آخری خوشی تھی جو اُن کو ملی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان کے جنازے میں وہ لوگ بھی شامل نہ ہوئے جو اُن کے شاگرد تھے۔ اُن کی محافل کا حصہ بنتے تھے، اُن سے حرف و لفظ کے معنی پوچھتے تھے۔ شاید اب ہم نے موت کو بھی گروہ بندیوں کا حصہ بنا لیا ہے جہاں پر میت بھی پسند اور ناپسند کی جاتی ہے۔ جس وقت مَیں شاہ جی کا جنازہ پڑھ رہا تھا سوچ رہاتھا کہ اس شہر کے مکینوں کو معلوم ہی نہیں کہ آج علم و ادب کے اعتبار سے کتنا بڑا آسمان غروب ہو گیا۔ شہر کی سرگرمیاں معمول کے مطابق تھیں اور کسی کے گھر میں بھی اصغر علی شاہ کے جانے کا افسوس نہیں منایا جا رہا تھا۔ ایسے میں رات گئے جب مَیں اپنے فیس بک اکاؤنٹ کو سرچ کر رہا تھا تو میرے سامنے جنابِ رضا علی عابدی کی ایک پوسٹ آ گئی جو انہوں نے خلیق انجم کی موت پر لکھی۔ مَیں وہ پوسٹ پڑھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ رضا علی عابدی نے خلیق انجم کے بارے میں وہ پوسٹ لکھ کر ہم پر احسان کیا کیونکہ مجھے ایسے لگا جیسے وہ خلیق انجم کے ساتھ ساتھ اصغر علی شاہ کے بارے میں بھی ہے۔ رضا علی عابدی کی تحریر ملاحظہ فرمائیں جس کو آپ اصغر علی شاہ موت کے پس منظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔
’’اُردو پر عجب وقت پڑا ہے زبان کے کیسے کیسے سرپرست اُٹھتے جا رہے ہیں۔ خلیق انجم کے ہونے سے بڑی ڈھارس بندھی تھی۔ وہ بھی چل بسے۔ اُردو زبان کو جیسے انہوں نے سنوارا اور نکھارا اُردو والے ہی جانتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد اس میدان میں ہمارے دانشور خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اور خلیق انجم کے کام کا کوئی شمار ہے؟ عمر بھر لکھتے رہے اور وہ بھی تحقیق جا بجا بکھرے ہوئے موتی بٹور کر۔ اوپر سے یہ کہ اپنی اس ساری مشقت کو کتنے سلیقے اور ہنرمندی سے کتاب کے ورق پر بکھیر گئے کہ علم کی آنکھیں بھی منور ہوتی ہیں اور ذہن کے دریچے بھی۔ جب کبھی لندن آتے بی۔بی۔سی کی اُردو سروس ضرور آتے اور پھر جو احباب کی محفل سجتی تو منظر یہ ہوتا کہ درمیان بیٹھے خالص دلی کے لب و لہجے میں وہ شگفتہ باتیں کر رہے ہوتے اور اہلِ مجلس لطف اٹھا رہے ہوتے۔ ایک بار پاکستان آئے تو کہنے لگے بھارت سے آنے والوں کی پاکستان میں جو آؤ بھگت ہوتی ہے وہ دلوں میں جگہ کر لیتی ہے۔ بولے کہ پاکستان سے میرے میزبان کبھی بھارت آئیں تو یہاں جیسی میزبانی کی توقع نہ رکھیں۔
ہم تو یہ جانتے ہیں کہ کیا یہاں اور کیا وہاں؟ خلیق انجم آپ ایک بہتر ٹھکانے کو سدھار گئے۔‘‘
پورے کالم میں ہم نے شاہ جی کا کوئی شعر اس لیے نہیں لیا کہ ہم آخر میں ان کی ایک خوبصورت غزل پڑھنے والوں کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔ غزل ملاحظہ کریں۔
مرورِ وقت کی ہے داستان حرفوں میں
ہزار دفن ہیں تاریخ دان حرفوں میں
برائے جاں نہیں دیووں کے پاس ہی طوطے
کچھ آدمی بھی ہیں جن کی ہے جان حرفوں میں
نگاہِ وقت کبھی تو پڑے گی ہم پر بھی
کچھ آپ بیتی کے نشان چھوڑے حرفوں میں
الٰہی کون تھا وہ جیبھ کا جلا جس نے
کتر کتر کے نکالی زبان حرفوں میں
ہر ایک جنس کا بازار ہو چلا کالا
کبھی نہ کھولتے فکری دکان حرفوں میں
زبان میری تھی حرفوں میں بانٹ دی مَیں نے
مگر نہ بانٹ سکا تیرا کان حرفوں میں
ہم آدمی ہیں پہ حرفوں کو کیسے گیان ہوا
کہ بس گیا ہے تمہارا ہی دھیان حرفوں میں
نہ اس جہان میں نہ اگلے جہان ہی میں ملیں
رہا ہو جن کا ہمیشہ قِران حرفوں میں
جو اہلِ نور ہیں جنت میں جا جواں ہوں گے
ہم اہلِ نار رہیں گے جوان حرفوں میں

Views All Time
Views All Time
735
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   کہا جاپان کو جائیں؟ -ابن انشاء
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: