شاہِ مدینہ ﷺ کے سوالی

Print Friendly, PDF & Email

prof-abdullah-bhatti-sbمسجدِ نبوی ﷺ محبان و عشاق سید المرسلین ﷺ کے پروانوں کے نورانی چہروں سے روشن تھی درود و سلام کی عطر بیز صداؤں نے ایمان افروز جلوے چہا ر سو پھیلا رکھے تھے دنیا بھر سے اپنے مولا، راحت انس و جاں ، نور مجسم کے عشاق دیوانے اپنی خا لی جھو لیاں پھیلا ئے اپنے محبوب ﷺ کے در پر سیلاب کی طرح اُمڈ آئے تھے ویسے تو آجکل پو ری دنیا ما دیت کے سمندر میں غرق ہو چکی ہے ما دی انسانوں نے اِس جہان ، رنگِ بو میں ہزاروں بت تراش رکھے ہیں جن کی چوکھٹوں پر مادی انسان شب و روز اپنے ما تھے رگڑتے ہیں اِنہی بتوں کو اپنی محبتوں کا محور بنا رکھا ہے ۔ جب کہ سچ تو یہ ہے کہ نگا ہِ عشق و مستی میں حقیقی محبوب ہو نے اور ہما ری محبتوں کی حقیقی حق دار ہستی تو اللہ بزرگ و بر تر کی ذاتِ اقدس کے بعد شاہِ مدینہ سرور کائنات ﷺ ہی ہے سید الانبیاء ﷺ کی ذات مقدس کے علاوہ با قی تمام بتان آزری میں وقت کا بے راس گھوڑا پو ری رفتار سے دوڑتا چلا جا رہا ہے وقت نے کئی کروٹیں بدلیں کبھی اندھیروں نے قبضہ کیا تو کبھی روشنیاں اور اجالے غالب آئے وقت کے گزرنے سے کرہ ارض بہت ساری تبدیلیوں سے گزرتی رہی ہے گردشِ لیل نہار سے بہت سے حوالے گہرے نقوش تلخ و شیریں یا دیں تا ریخ انسانی پر نقش ہو جا تی ہے تا ریخ کے اوراق کی ورق گردانی کریں تو تاریک اور روشن پہلو، دکھ ا ور خو شیاں ہر دور میں رہی ہیں زندگی کے کئی رنگ تیز ہو ئے اور بہت سارے پھیکے پڑ گئے کو ئی بھی چیز یا رنگ ابدی نہ رہا لیکن ہر دور میں ایک ہی رنگ اور خو شبو غالب رہی وہ خو شبو تھی محبت کی عشق کی جو سنگلاخ چٹا نوں سے بھی جھرنوں کی طرح پھوٹ پڑتی ہے محبت و عشق جو اِس کا ئنات کی تخلیق میں ودیعت کر دیا گیا وقت کی کروٹوں سے بعض اوقات دھندلا پڑجا تا ہے وقت کے غبار میں دب جا تا ہے لیکن سید المرسلین سے محبت کا رنگ اتنا گہرا ہے جو کبھی بھی پھیکا نہیں پڑتا محبت کی یہ فطری خو بی ہے کہ وہ ہر رنگ میں پھیل جا تی ہے دنیا پرستی کی شاہراہ پر دوڑتے دوڑتے جب انسان ما دیت کے رنگ میں رنگا جا تا ہے نفس اور شیطان کا آلہ کار بن جا تا ہے تو دنیا کی محبت اُس پر غالب آجا تی ہے لیکن جب بھی کو ئی الٰہی رنگ اور عشقِ رسول ﷺ کے رنگ میں رنگا جا تا ہے تو ما دیت اور نفسی بیما ریاں اور شیطانی حربے مو ت کا شکا ر ہو جا تے ہیں کیونکہ الٰہی رنگ اور آقا ئے مدنی شہنشاہ ﷺ کا رنگ اتنا گہرا چمک دار اور خو بصورت ہے کہ کو ئی اور رنگ نہ اِس رنگ کا مقا بلہ کر سکتا ہے اور نہ ہی غا لب آسکتا ہے شیطان اپنا سر پیٹ لیتا ہے اور نفس ذلیل ہو کر رہ جا تا ہے ۔ رب ذولجلال حضرت عیٰسی ؑ کو وحی فرما تے ہیں ۔ جب میں اپنے بندے کے باطن کو دیکھتا ہو ں کہ اس میں دنیا و آخرت کی محبت نا پید ہے تو اس کے دل کو اپنی محبت سے بھر دیتا ہوں اور اُسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہوں خو ش قسمت ہو تے ہیں وہ نفوسِ قدسیہ جن کے دلوں اور روحوں میں اللہ تعالی اپنی اور اپنے محبوب کی محبت کے مہکتے ہو ئے پھول کھلا دیتا ہے جن نیک لوگوں کے سینوں اور نہاں خانوں مین یہ پھول لہلہاتے ہوں اُن کی مہک سے معا شرے معطر اورزندہ رہتے ہیں ایسے لوگ اللہ تعالی کی پنا ہ میں رہتے ہیں جیسے جیسے یہ پھول گلستانوں میں پھیلتے ہیں اِن کی مہکار سے اطراف مہکتے ہیں ان کے درجا ت بلند ہو تے ہیں پھولوں کے اِس چمن میں جھو ٹ کا گزر نہیں ہو تا اِن نفوس قدسیہ کا اوڑھنا بچھونا ہی خدا اور رسول ﷺ کی اطا عت عشق و محبت ہو تا ہے مسجدِ نبوی ﷺ میں میرے چاروں طرف ایسے ہی مہکتے ہو ئے انسانوں کا سیلاب آیا ہوا تھا میں جو ساری عمر نیک لوگوں کی صحبت کے لیے دربدر بھٹکتا رہا ایک قطرے کی تلاش میں صحرا گر دی میں لگا رہا اور آج یہاں تو سمندروں کے سمندر اُبل پڑے تھے ایک سے ایک بڑھ کر نیک انسان جس کے سینے میں خدا اور اُس کے محبوب کے عشق کے آبشاراُبلے پڑے تھے میں خو شی و مسرت سرشاری میں مست چاروں طرف دیکھ رہا تھا ۔ عشقِ رسو ل ﷺ کی شبنمی پھوار نے مجھے اپنی آغوش میں لیا ہوا تھا اور میں خوشی و مسرت کے سمندر میں گم چاروں طرف دیکھ رہا تھا میں جو زندگی بھر سلگتے صحراؤں میں ننگے پا ؤں پھرتا رہا آج میری آبلہ پا ئی کو کو چاں جاناں میں راحت مل رہی تھی ۔ میرے جسم و روح دل و دماغ اور بطن کے نہاں خانوں میں خو شی و مسرت نشے سرور و مستی کے لا تعداد فوارے پھوٹ رہے تھے اور میں قطرہ قطرہ ہر لمحے کو خو ب enjoyکر رہا تھا اچانک میری نظر اصحاب صفہ کے چبو ترے پر پڑی جہاں سوالی بیٹھے نظر آئے تو مجھے اصحاب صفہ یاد آگئے جو دنیا کے چپے چپے سے شہنشاہِ مدینہ ﷺ کے در پر علمی پیا س بجھا نے آئے تھے ۔ سید المرسلین ﷺ کو اُن سے اور انہیں آقا ئے دو جہاں ﷺ سے لا زوال محبت تھی انہی نفوس قدسیہ میں حضرت ابو ہریرہؓ بھی تھے جو فرماتے ہیں میں نے 7کے قریب ایسے افراد کو دیکھا کہ اُن کے کپڑے ان کی رانوں تک نہیں آتے تھے دوران نماز رکو ع و سجود میں کپڑوں کو اپنے ہا تھو ں سے اِس طرح سمیٹ لیتے کہ پر داری رہے اِن کی آپس میں مثالی محبت تھی ایک دوسرے کا خیال بھی ایک دوسرے سے اِس طرح مل کر بیٹھتے کہ ایک دوسرے کی پردہ پو شی بھی ہو تی رہے جب فاقوں کے دن طویل ہو جا تے تو اکثر کثرت بھوک اور کمزوری سے دوران نماز گر جا تے جب بھوک حد سے گزر گئی تو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا آقا ﷺ کھانے کو کچھ بھی نہیں ملتا مسلسل کھجوریں کھا کو ہما رے پیٹ شدید گر می کا شکا ر ہو گئے ہیں تو نو ر مجسم نبی رحمت ﷺ نے خا مو شی اختیار کی اور دل میں کہا اے میرے جانثاروں تمہیں کیا خبر کہ کتنے دنوں سے میرے گھر کا چولہا بھی نہیں گرم ہوا میں بھی کتنے دنوں سے پا نی اور کھجور پر ہی ہوں نبی رحمت ﷺ کے پاس جب بھی کھا نے کی کو ئی چیز آتی تو سب سے پہلے اِن اصحاب صفہ کو یاد کر تے آج بھی اُسی چبو ترے پر بہت سارے سوالی بیٹھے نظر آتے ہیں اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں بھی جا کر اُن کے درمیان بیٹھ جا ؤں میں بھی اُن کی نسبت سے امر ہو جاؤں لیکن پھر مجھے اپنی سیا ہ کا ریاں اور گناہوں کا طویل سلسلہ نظر آیا اور میں خوف میں مبتلا ہو گیا کہ میں اِس قا بل نہیں ہوں کہ اُن نفوس قدسیہ کے چبو ترے پر بیٹھ سکوں ۔ میں ریا ض الجنہ کے کنا رے کھڑا اپنی با ری کا انتظار کر رہا تھا کہ کب مجھے بھی مو قع ملے اور میں بھی اُن خوش قسمت ترین انسانوں میں شامل ہو جا ؤں جنہیں اِس جنت کے ٹکڑے کو چھو نے کی سجدہ ریز ہو نے کی سعادت حاصل ہو ئی ہو آخر میری زندگی کی قیمتی ترین گھڑی آگئی مجھے مو قع ملا اور میں جنت کے با غیچے میں اُتر گیا میں یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں جکڑا گیا مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ میں ریا ض الجنہ میں آچکا ہوں فوری طور پر نوافل شروع کر دیے عقیدت و محبت اور سر شاری سے میرا پورا وجود لرز رہا تھا مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے طویل اُڑان کے صدیوں کی مسافت اور پیاس کے بعد کو ئی نا تواں پرندہ تھکا وٹ سے چور کسی شفاف جھیل پر اُتر گیا ہو ۔ لمبے ریگستانی سفر کے بعد نخلستان میں اُتر گیا ہوں ۔ میرے پا ؤں اُس زمین کو چھو نے کی سعادت حاصل کر رہے تھے جو آسمانوں کی رفعتوں سے بھی ارفع ہے ، مجھے لگ رہا تھا نرم گلاب کی تا زہ مہکتی ہو ئی پتیاں چاروں طرف بکھری ہیں اور میں اُن پر کھڑا ہوں اُن پتیوں کی مہک سے میری روح قلب و روح کے نہاں خا نے معطر ہو تے جا رہے تھے ۔ عشق و مستی اور وجد کیف کی سر مستی نے مجھے گھرا ہوا تھا مجھ سے کچھ بھی پڑھا یا بولا نہیں جا رہا تھامیراجسم اور زبان کیف انگیز کیفیت سے دو چار تھے آخر بڑی کو شش کے بعد میرے ہو نٹ سوکھے پتوں کی طرح تھر تھرانے لگے ۔ الفاظ میرے ہونٹوں کی قید سے آزاد ہو نے لگے اور میں بے ربط پڑھنے لگا اور جب میں سجدے میں گیا تو اچانک مجھے سید المرسلین ﷺ کا ارشا د گرا می یا د آگیا میرے گھر اور منبر کا درمیانی ٹکڑا جنت کے با غیچوں میں سے ایک با غیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض ( کو ثر ) پر ہو گا اور پھر یہ تصور کہ نرم گداز مخملی قالین کے نیچے سنگ مرمر کے بھی نیچے اُس خاک کے ذرات آج بھی چمک اور مہک رہے ہوں گے جنہوں نے سرور کا ئنات تلوؤں کو آپ ﷺ کے اہل بیتؓ اور صحابہ کرامؓ کے پا ئے مبارک کو چومنے کا شرف حاصل کیا ہو گا اِس خیال کی وسعتوں نے مجھے مالا مال کر دیا اور میں معصوم بچوں کی طرح پھو ٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔

Views All Time
Views All Time
435
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ماہِ رمضان المبارک---کیا کھویا کیا پایا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: