Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سیاست میں سوال تو ہوتے ہیں بابا

سیاست میں سوال تو ہوتے ہیں بابا
Print Friendly, PDF & Email

انتخابی ماحول بن رہا ہے۔ تحریک انصاف بھر پور’’ اُمید‘‘ سے ہے سارے جہاں کا سامان اس کے آنگن میں لا پھینکنے والے کیا اسے کُلی اقتدار دیں گے؟۔ سوال پر غور کیجئے اتنی دیر میں کچھ اور باتیں کرلیتے ہیں۔ ذاتی دوستوں، برادرمکرم امتیازاحمد گھمن اور قارین کی اکثریت اکثر طعنہ دیتی ہے کہ پیپلزپارٹی کا غمخوار ہوں۔ ارے ایسا نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ دستیاب برائیوں میں پیپلزپارٹی نسبتاً کم برائی ہے۔ بس اس سے سوا کچھ نہیں ہے وہ بھی طبقاتی جمہوریت کی اسیرہے، بچی کھُچی اصولی سیاست کی آخری نشانی بے نظیر بھٹو 27دسمبر 2007ء کی شام اُترنے سے کچھ دیر قبل لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر مار دی گئیں۔

ہماری اس قابل احترام بہن نے ہی پیپلزپارٹی کو سمجھوتوں کی سیاست کا ذائقہ چکھا یا تھاان کے بعد تو پارٹی نے سمجھوتوں کو سموسہ ہی سمجھ لیا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خاکسار پیپلزپارٹی کو دوسروں کے مقابلہ میں کم برُائی سمجھتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ ذاتی خوش فہمی ہو اور آپ جواباً ٰیہ دریافت کریں کہ پی پی پی نے پنجاب میں جب منظور وٹو سے ملکر مخلوط حکومت بنائی تھی تو اس میں انجمن سپاہ صحابہ کے شیخ حاکم علی کیا صوبائی وزیر نہیں تھے؟۔ جواب اثبات میں ہے لیکن انجمن سپاہ صحابہ کا معاہدہ میاں منظور احمد وٹو اور حامد ناصر چٹھہ کی جو نیجولیگ سے ہوا تھا۔اخلاقی طور پر پیپلزپارٹی کو اس سے اختلاف کرنا چاہئے تھا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت انتخابی دنگل کے اکھاڑے میں موجود چھوٹی بڑی تما م سیاسی جماعتوں پر کسی نہ کسی حوالے سے سوال اُٹھ رہے ہیں۔ مثلاً اے این پی سے سوال ہو رہا ہے کہ اس نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کے قاتلوں کے سرپرست و سہولت کار اور بطور ضلع ناظم مردان ، مذہبی انتہا پسندوں کو مرکز بنا کر دینے والے حمایت اللہ مایار کو صوبائی اسمبلی کے لئے امیدوار کیوں بنایا؟۔تحریک انصاف کو دوسوالوں کا سامنا ہے اولاً طالبان کے پاکستانی گارڈ فادر مولانا سمیع الحق کی 57کروڑ روپے سے اصلاح مدارس کے نام پر ناز برداری اور ثانیاً نون لیگ و پیپلزپارٹی سے آئے لوٹوں کو دیرنیہ رہنماؤں اور کارکنوں پر ترجیح دیتے ہوئے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے امیدوار بنانا، کچھ حلقوں سے اس کے ناراض کارکن بنی گالہ کے باہر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور کپتان کہہ رہا ہے وہ دھرنوں سے بلیک میل نہیں ہوگا۔ فقیر راحموں کا موقف ہے کہ دھرنوں سے بلیک میل کرنے کا حق صرف کپتان کو ہے۔ اللہ معافی تحریرنو یس فقیر راحموں کے اس موقف سے برأت کا اظہار کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   نواز شریف اور چوہدری نثار میں ’’ لڑائی‘‘ کب سے شروع ہے؟| انور عباس انور

الیکشن کمیشن اور مسماۃ نیشنل ایکشن پلان کی ناک کے نیچے تخریب کاروں اور سکہ بند قاتلوں کی سہولت کار راہ حق پارٹی انتخابی سیاست کے میدان میں ہے صرف کراچی سے اس کے 4 امیدوار قومی اسمبلی اور 15صوبائی اسمبلی کی مختلف نشستوں پر کھڑے ہیں۔راہ حق پارٹی انجمن سپاہ صحابہ پشاور کے ایک سابق راہنما ابراہیم قاسمی نے بنائی تھی دو سال قبل کے بلدیاتی انتخابات کے دوران سندھ میں جے یو آئی (ف) جماعت اسلامی، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی نون لیگ فنگشنل لیگ اور اے این پی سمیت سب نے مختلف علاقوں میں اس سے انتخابی اتحاد بنایا۔ اے این پی اور پیپلزپارٹی نے اس اتحاد پر ہونے والی تنقید کے بعد جماعتی سطح پر معذرت کی باقی سب نے ’’دڑوٹ لی‘‘۔ اس بار اطلاع یہ ہے کہ فضل الرحمن کی قیادت میں بنے ایم ایم اے نامی اتحاد اور راہ حق پارٹی میں کراچی کی سطح پر خاموش معاہدہ ہے۔خداکرے یہ اطلاع غلط ہو۔ مگر زمینی حقائق اطلاع کی تصدیق کررہے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ انجمن سپاہ صحابہ کے اورنگ زیب فاروقی کے مقابلہ میں ایم ایم اے نے امیدوار نہیں دیا۔

تخریب کار اُمت کہلانے والی لشکر جھنگوی کے سابق صوبائی سربراہ(یہ حضرت نام کے ہی سابق ہیں)اور انجمن سپاہ صحابہ کے مُلارمضان مینگل بھی کوئٹہ سے انتخابی امیدوار ہیں اور ان قائد احمد لدھیانوی جھنگ سے، لدھیانوں کے کاغذات 19جون کو اس بنیاد پر مسترد ہوئے کہ اس نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ تخریب کاروں کی سہولت کار راہ حق پارٹی کے خلاف الیکشن کمیشن اور دوسرے متعلقہ حکام نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟۔جواب یہ ہے کہ پچھلے بلدیاتی انتخابات کے دوران جب اس حوالے سے شوراُٹھا تھا تو نابغہء روزگار چودھری نثار علی خان جو کہ وزیرداخلہ تھے کالعدم تنظیموں اور سہولت کاروں کے حق میں خم ٹھونک کر میدان میں اُتر آئے تھے۔ اب بھی ظاہر ہے کہ ان تنظیموں کے بڑوں کی ریاستی اداروں میں ’’دُور‘‘ تک رسائی ہے۔اور یہ رسائی کسی سے ڈھکی چھپی ہرگز نہیں ورنہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کوئٹہ کے مرکزی چوک میں شیعوں کے قتل کی سنچری بنانے کا فخریہ اعلان کرے اور کوئی اس کے خلاف کارروائی نہ کرے۔

یہ بھی پڑھئے:   فوجی عدالتیں اور سویلین ٹسوے! - وسعت اللہ خان

ہمیں کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مروجہ سیاست میں اصول و نظریات کچھ نہیں بیچتے۔ داؤ لگی کی سیاست ہے اور اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتا نظام، اس نظام کی تبدیلی اگلی نصف کیا ایک صدی میں بھی ممکن نہیں وجہ یہ ہے کہ نظام کی نکیل طاقتور ریاستی اداروں کے ہاتھوں میں ہے۔ میرے اکثر دوست ناراض ہوتے ہیں کہ الیکٹیبلز جب پی پی پی یا نون لیگ میں تھے تو آپ لوگ تنقید نہیں کرتے تھے جیسے ہی وہ تحریک انصاف میں بھرتی ہوئے شور مچانے لگے ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا نون لیگ یا پیپلزپارٹی نے کبھی کسی انقلاب یا تبدیلی کی بات کی؟۔یہ انقلاب اور تبدیلی یا نیا پاکستان کا خواب عمران خان اکتوبر 2011ء سے فروخت کررہے تھے۔ اگر انقلاب و تبدیلی اور نیا پاکستان انہیں چوروں ، ڈاکوؤں، کمیشن خوروں(یہ سارے القاب عمران خان نے دئیے تھے) کی مدد سے بننا ہے تو پرانے پاکستان میں کیا برُائی ہے۔ رہا اس دعویٰ کا تعلق کہ لیڈر ایماندار ہو تو نیچے کچھ نہیں ہو سکتا۔ سینیٹ الیکشن میں کیا ہوا؟۔2013ء کے انتخابات میں ٹکٹیں کیسے فروخت ہوئیں کدھر گئی وہ رپورٹ جسمیں چودھری اعجاز، میاں محمودالرشید اور مخدوم جاوید ہاشمی کا نام نامی تھا کہ ان معززین نے ٹکٹوں کے لئے پیسے پکڑے تھے؟۔پی ٹی آئی کے دوست ناراض ہونے اور طعنے مارنے کی بجائے اپنی قیادت بلکہ پیشوائے بنی گالہ شریف سے اس بارے سوال کریں۔ حرف آخر ابتدائی سطورمیں عرض کیا گیاسوال ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ تحریک انصاف کو کلی اقتدار اور اختیار ملنا ممکن نہیں لگتا یہ ہے کہ مالکان کچھ گروپوں کو ملا کر اقتدار کا محل آباد کریں گے۔

Views All Time
Views All Time
112
Views Today
Views Today
4
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: