Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دہشت گردی یا نظریئے کی جنگ (تیسرا حصہ) – سخاوت حسین

by نومبر 8, 2016 بلاگ
دہشت گردی یا نظریئے کی جنگ (تیسرا حصہ) – سخاوت حسین
Print Friendly, PDF & Email

sakhawat hussainدہشت گردکی ذاتی حثیت ایک آلہ کار سے زیادہ بالکل نہیں ہے۔دراصل اس کو چلانے والے ، اس سے کام لینے والے، اسے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے اہم ہیں۔وہ اصل ذہن ہیں۔وہ ہی اصل مائنڈ سیٹ ہیں۔جس کی وجہ سے دہشت گرد حملوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔ دہشت گرد کامیاب حملے کیسے کر لیتے ہیں۔کیسے وہ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرتے ہیں۔جیسے کوئٹہ میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔پولیس اور سیکورٹی اداروں کی اس لیول پر تربیت نہیں ہوئی جس لیول پر دہشت گرد کی ہوتی ہے دہشت گرد کو ایک خاص ٹارگٹ دینے سے پہلے اس پر مکمل محنت کی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے آیا وہ اس کام کے لئے موزوں ہے یا نہیں وہ بھی ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے فرضی مشقیں کرتا ہے اور کئی روز کی محنت کے بعد پھر اسے ٹارگٹ کے حصول کے لئے میدان میں اتارا جاتا ہے۔دہشت گردوں کے کامیاب ہونے کی دوسری وجہ عدالتی نظام ہے جو دہشت گردوں کو نا کافی ثبوت کی وجہ سے بری کر دیتا ہے۔ جہاں ایک دہشت گرد عام انسان کی طرح آزاد ہوجاتا ہے اور اسے پھر طاقت مل جاتی ہے کہ وہ کارروائی کر سکے۔ تیسری وجہ حکمرانوں اور طاقتور لوگوں کا دہشت گردوں کے لئے نرم رویہ ہے۔ بہت سے لوگ حکومت میں بیٹھے ہوتے ہیں جو انتخابات کے وقت ان دہشت گردوں سے مالی اور دیگر معاونت حاصل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بعد میں انہیں دہشت گردوں کا آلہ کار ہی بننا پڑتا ہے۔
ایک سپاہی سے اگر آپ پوچھیں تو اسے اس بات میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں کہ دہشت گردوں کے آلہ کار کو کس طرح پکڑا جائے۔پاکستان میں اسی لئے دہشت گردی نہیں رکتی ۔کیونکہ یہاں دہشت گرد کو سب سے بڑا مجرم مانا جاتا ہے جب کہ وہ ایک کٹھ پتلی ہے جس نے ایک مقصد کے لئے لئے جان دی ہے۔اس مقصد کی تعمیر کرنے والا، اس مقصد کے لئے اسے تیار کرنے والا، اسے ماحول مہیا کرنے والا، فنڈنگ کرنے والا، اور پیٹھ پیچھے اس کی رہنمائی کرنے والا ہی اصل دہشت گرد ہے۔اس کے تعلقات اعلی عہدے پر فائز لوگوں سے بھی ہو سکتے ہیں۔اور ہو سکتا ہے جب وہ آپ کے سامنے آئے تو آپ کو سلجھا ہوا اور شائشتہ انسان لگے۔اور آپ دہشت گردوں کے اس سرغنہ کو ایک معزز اور باعزت شخص کی طرح ہی عزت دیں۔کیونکہ آپ کے سامنے اس کا سوفٹ فیس ہی آئے گا۔
دہشت گرد اور عام فرد میں فرق صرف سوچ کا ہے۔دہشت گرد موت سے نہیں ڈرتا اور عام فرد زندگی سے پیارکرتا ہے۔دہشت گرد زندہ نہیں رہنا چاہتا جبکہ عام فرد زندہ رہنے کے لئے ہی ساری جدوہجہد کرتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے زندگی بھی کسی خوبصورت سوچ اور اس سے وابستہ توقعات کا نام ہے اور دہشت گرد کے نزدیک موت بھی ابدی دنیا کا نام ہے جہاں خوبصورت حوریں اور بہشت کی نعمتیں اسکے انتظار میں ہیں۔ اسی لئے دہشت گرد کی سوچ کو بھی دوسری سوچ سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ ایک نظریہ ہے اس کو دوسرے اعلی نظرئے سے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔ہر دفعہ وطن عزیز میں دہشت گرد کوئی نا کوئی کارروائی سرانجام دیتے ہیں۔اور ہم پوچھتے ہیں آخر ہمارے سیکورٹی ادارے کیا کر رہے ہیں کیوں وہ یہ حملے روک نہیں پاتے۔
وہ اس لئے حملے نہیں روک پاتے کیونکہ وہ صرف دہشت گرد تک ہی پہنچ پاتے ہیں۔اس کے تخلیق کا ر تک وہ اول تو پہنچ نہیں پاتے اور اگر پہنچ جائیں تو کوئی نا کوئی رکاوٹ آڑے آجاتی ہے۔کوئی خوبصورت چہرے والا ان کا معاون بن کر بچانے کے لئے میدان میں کود پڑ تا ہے جسے ہم دہشت گردوں کا سوفٹ فیس کہہ سکتے ہیں۔جب تک یہ سوفٹ فیس موجود رہیں گے دہشت گرد موجود رہیں گے۔اور حکومت کو یہی کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ یہ سوچتے ہیں ڈیری ملک کی چاکلیٹ ایک دکان سے کھا کر آپ اسے ختم کر دیں گے تو یہ بھول ہے آپ کو اس فیکٹری کو بند کر نا ہوگا۔جہاں چاکلیٹ بنتی ہے۔اسی طرح یہ سوفٹ فیسز بھی فیکڑیز ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی تب دہشت گرد بننا بند ہوں گے۔
ساتھ آپ کو لانگ ٹرم کی پاننگ بھی کرنی ہوگی۔آپ کو ملک سے نفرت انگیز لٹریچر کے خلاف ایکشن لینا ہوگا۔آپ کو دہشت گردوں کو تعلیم کی روشنی سے منو ر کرنا ہوگا۔انکے ذہنوں کو مصروف کرنا ہوگا۔ان کو یقین دلانا ہوگا۔یہ ملک ان کا اپنا ہے اور یہاں کے لوگ ان کے اپنے ہیں ۔یہ ملک اور یہاں کے لوگ کسی بھی صورت نفرت کے قابل نہیں ہیں۔ان کو ملکی دھارے میں لانا ہوگا۔ان کی اس طرح ذہن سازی کرنی ہوگی جیسے ان کی، کی جاتی ہے جب وہ اصلی دہشت گردوں کے پاس پہنچتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ آپ کو اپنے نظام تعلیم کو معتدل بنانا ہوگا۔
آپ کو حقیقی علما کے ساتھ مل کر لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی ضرورت ہے۔بگڑے ہوئے لوگوں کو اصلی اسلام کا تصور دینا ہوگا۔اسلام جو امن اور سلامتی کا دین ہے ۔اسلام جو ایک چیونٹی کو بھی مارنے کے حق میں نہیں ۔اسلام کا حقیقی تصور ذہنوں میں راسخ کرنا ہوگا۔ساتھ ایسے معتدل معاشرے کا قیام، جہاں کے لوگ علم سے محبت کرتے ہوں ، جہاں علم دوستی اور انسانیت دوستی کو اصل درس سمجھا جائے۔تبھی آپ ان دہشت گردوں کو ختم کر سکتے ہیں۔
یا د رکھیں نظرئیے کو شکست نظریہ دے سکتا ہے ۔ہتھیا ر سے نظریہ کمزور ضرور ہوتا ہے۔مگر نظرئے کی شکست شارٹ ٹرم پلاننگ کے ساتھ نہیں کی جا سکتی۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردوں کے والیوں سے بھی تعلقات ہوں اور دہشت گردی بھی ختم ہوفیکڑیز سے بھی رسم وراہ ہو اور پروڈکٹ کو لینے سے بھی انکار کریں۔اب یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ آج تک والیوں کو نہیں پکڑا گیا۔ان کو آزاد چھوڑا گیااور مشکل وقت میں صرف چند نام نہاد دہشت گردوں کو ہی سزا دی جا سکی ہے اسی لئے دہشت گرد یہاں آزاد گھوم پھر رہے ہیں اور لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔

ختم شد

Views All Time
Views All Time
376
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   عوامی بسوں میں سفر خواتین کا دوہراامتحان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: