خدا ترس

Print Friendly, PDF & Email

khuda tarasعالمی افسانہ میلہ 2016، عالمی افسانہ فورم
افسانہ نمبر 14 ”خدا ترس ”
شمسہ نجم ۔لاس اینجلس , امریکہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سہیل بارہویں جماعت کے کیمسٹری کے پرچے کی تیاری کر رہا تھا۔ امتحان ہونے والے تھے سر پہ فکر سوار تھی۔ ماں کی آرزو پوری کرنے کے ساتھ ساتھ خود کچھ کر دکھانے کا عزم بھی سر پہ سوار تھا۔ لائبریری میں بیٹھ کر پڑھ رہا تھا کہ ایک دم کسی نے کمر پہ دھپ سے ہاتھ مارا۔ یہ جبار تھا۔ سہیل کا ہم جماعت اور دوست۔
"یار کیا ہو رہا ہے”۔ جبار نے لائیبریری کے ماحول کو دیکھ کر دھیمے لہجے میں پوچھا۔ "پڑھ رہا ہوں”۔ سہیل دبی آواز میں بولا۔ "تم بھی پڑھ لو یار۔ امتحان ہونے والے ہیں۔ کہاں گھومتے پھر رہے ہو”۔ سہیل ہمیشہ اس کی لاپرواہی اور وقت ضائع کرنے کی عادت سے چڑتا تھا۔ جبار ساتھ والی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کیمسٹری کی کتاب کو اپنی طرف گھسیٹ کر اس کے صفحے پلٹنے لگا پھر بولا "یار یہ کیمسٹری میرے بس کی نہیں ہے۔ فارمولے یاد کرنا، ایٹومک ویٹس یاد کرنا۔ ایکویشنز اور کیمیکلز کے نام یاد کرنا۔ نہ بھئی نہ۔ کیمسٹری میں تو فیل ہوں گا میں پکا۔ انٹر میں پاس ہی ہو جاوں تو بہت ہے۔ اگلے سال آرٹس میں داخلہ لوں گا۔ میں نے سوچ لیا ہے۔ بس مجھے ایم اے کرنا ہے کسی بھی مضمون میں۔ بس اس کے بعد کالج میں لیکچرار کی نوکری کروں گا”۔
"سوچ لو یار۔ کالج میں لیکچرار بننے کے لیے بھی پڑھنا تو پڑے گا”۔ سہیل نے مسکرا کر کہا۔
"ارے یار وہ میں بتانا بھول گیا ہمارے ہائی اسکول کے سائینس ٹیچر ماسٹر رحمان ہیں نا ۔ ان کی طبیعت بہت خراب ہے۔ انہیں ہسپتال لے کر گئے ہیں”۔ سہیل کو رحمان صاحب کے بارے میں سن کر واقعی دکھ اور پریشانی ہوئی۔ "اب کیسے ہیں وہ؟”
رحمان صاحب اس کے اسکول کی نویں اور دسویں جماعت کے سائنس ٹیچر تھے۔ اور وہ بچوں کو اتنی سنجیدگی اور اپنے پن سے پڑھاتے تھے کہ جو ایک بار ان کی شاگردی اختیار کر لیتا ہمیشہ کے لیے ان کا دیوانہ ہو جاتا۔ وہ بڑوں اور بچوں میں یکساں مقبول تھے۔ ان کی طبیعت کا سن کر سہیل نے ان کے لیے دل ہی دل میں دعا مانگی اور جبار سے کہا "اگر تم ان کو دیکھنے ہسپتال جاو تو مجھے ساتھ لے لینا”۔ "چل یار ابھی چلتے ہیں” جبار اٹھتے ہوئے بولا۔”ایک کلاس باقی ہے اس کے بعد چلتے ہیں”۔
جبار بولا "اچھا میں ایک گھنٹے کے بعد باہر گیٹ پر تیرا انتظار کروں گا”۔
کلاس سے باہر نکلا تو ہر طرف تیز دھوپ پھیلی ہوئی تھی جو اس بات کی نوید تھی کہ سردیاں رخصت ہونے کو ہیں۔ لاڑکانہ شہر میں گرمی اور سردی ہمیشہ شدید ہوتی ہے۔ سردیوں میں کوئٹہ قریب ہونے کی وجہ سے ہر بار کوئٹہ میں برف باری ہوتے ہی کوئٹہ کی رگوں میں لہو منجمد کر دینے والی یخ بستہ ہوائیں سردی کی باقاعدہ لہر لے کر آتی ہیں ۔ کوئٹہ میں برفباری ہونے سے عموماً قریبی علاقوں میں بارش ہو جاتی ہے اور لگتا ہے سردی لوٹ آئی لیکن دو تین دن بعد ہی چلچلاتی دھوپ بدن جلانے لگتی ہے- یہ سلسلہ مارچ تک چلتا ہے کیونکہ فروری کے مہینے اور مارچ کے اوائل میں موسم بدل رہا ہوتا ہے- فروری کا تیسرا ہفتہ تھا پچھلا پورا ہفتہ سردی کی شدید لہر تھی لیکن آج اس کا اثر کم لگ رہا تھا آسمان صاف تھا اور تیز دھوپ تھی اور اس میں کافی تپش تھی ۔ سہیل کالج سے باہر آیا- گیٹ پر پہنچا تو جبار اپنی موٹر سائیکل پر پہلے سے موجود تھا جبار کے ابا واپڈا میں انجینئر تھے اور جبار کے مزے تھے – اس وقت لاڑکانہ میں اکا دُکا لوگوں کے پاس موٹر سائیکلیں تھیں۔ جن میں سے ایک جبار بھی تھا۔
جبار کالج کی دیوار کے سائے میں کھڑا تھا۔ اس کے پاس ہی اس کی موٹر سائیکل کھڑی تھی۔ سہیل کو دیکھ کر وہ رندھی آواز میں بولا "یار بہت بری خبر ہے۔ رحمان صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اب ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی ڈیڈ باڈی گھر لے گئے ہیں۔ چلو ان کے گھر ہی چلتے ہیں”۔ دونوں فوراً ہی موٹر سائیکل پر ان کے گھر روانہ ہو گئے۔ ان کے مردہ جسم کو دیکھ کر سہیل پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ ان کے انتقال کے دنوں میں سہیل کا کئی بار رحمان صاحب کے گھر جانا ہوا۔ لیکن ایک چیز سہیل نے محسوس کی کہ جبّار اس گھر کے کاموں میں کچھ زیادہ ہی بڑھ چڑھ کر حصّہ لے رہا تھا۔ ان کی تدفین ، قبر کھدوائی ، ان کے گھر میں آنے جانے والوں کے لیے بیٹھنے کا انتظام کرنے میں ہر جگہ جبّار پیش پیش تھا۔ رحمان صاحب کے انتقال کے ایک ماہ بعد ہی امتحانات شروع ہو گئے۔ سہیل پڑھائی میں مصروف ہو گیا۔ امتحانات کے بعد بھی جبار کا رحمان صاحب کے گھر آنا جانا لگا رہا۔ سہیل کو اچھّا لگا میرا دوست اتنا حساس اور خدا ترس ہے۔ حالانکہ عام حالات میں سہیل جبّار کے چھچھورے مذاق پسند نہیں کرتا تھا۔ اسے جبّار کے چہرے پر ہر وقت رہنے والی مسکراہٹ اچھی نہیں لگتی تھی۔ وہ اسے کہتا بھی تھا "یار تیرے چہرے پہ باقی سب ٹھیک ہے سوائے تیری مسکراہٹ کے”۔
"کیوں کیا ہوا میری مسکراہٹ کو”-
"خباثت جھلکتی ہے”۔ اور جبّار ہنس پڑتا ۔
لیکن اس کی شخصیت کے اس نئے پہلو سے آگاہ ہو کر اس کو اپنے دوست کی قدر ہوئی۔ وہ رحمان صاحب کی بیوہ, سب انہیں سلیمہ آپا کہتے تھے , کے گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ان کی مدد کرتا تھا۔ گھر کا سودا سلف لا کر دیتا تھا۔ ان کے بچّوں کو سکول لے کر جاتا پھر واپس گھر پہنچا کر پھر اپنے گھر جاتا تھا۔ سہیل سے اس کی ملاقات ہوئی تو سہیل نے پوچھ لیا۔ یار کیا ہوا ہے تمہیں۔ تم نے تو خود پہ کچھ زیادہ ہی ذمہ داری ڈال لی۔
جبّار بولا "یار ماسٹر رحمان میرے محسن ہیں میں ان کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ ان کی بیچاری بیوہ اور تینوں بچّے اکیلے ہیں۔ سب سے بڑا بیٹا صرف دس سال کا ہے۔ بیٹی سات سال کی پھر ایک چار سال کا بچّہ ۔ اتنے معصوم اور چھوٹے چھوٹے بچّے ہیں ، بے چارے یتیم ہو گئے۔ ہمارا فرض ہے کہ ان کا خیال رکھیں”۔ سہیل کو اپنے دوست سے عقیدت محسوس ہوئی اور اسے ناز ہوا کہ اس کا دوست اتنے خوبصورت دل کا مالک ہے۔ ساتھ ہی ماسٹر صاحب کی حسین و جمیل بیوہ اور تینوں معصوم اور خوبصورت سرخ و سفید بچّے ذہن میں آ گئے۔ تینوں اجلے اجلے بڑی بڑی براون آنکھیں اپنی ماں کی طرح نازک ناک و نقشہ ۔ خاص طور پر چھوٹا بچّہ اور بچّی تو ایسےتھے جیسے گڈا اور گڑیا۔ اتنے پیارے بچّے یتیم ہو گئے۔ تقدیر کے کھیل نرالے ہیں اور موت برحق ، خدا کی رضا کے آگے سب کو سر جھکانا پڑتا ہے۔
1972ء میں بھٹو کی حکومت کے بعد "سندھ میں صرف سندھی رہیں گے” کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے سندھیوں کے ناخواندہ طبقے نے غیر سندھی عوام یعنی پنجابیوں اور مہاجروں کی دکانیں جلا دیں ان کی جان کو خطرہ ہو گیا۔ مصطفے کھر وزیرِ اعلٰی پنجاب منتخب ہو چکے تھے، پیپلز پارٹی کو پنجاب سے بھی ووٹ ملے تھے ۔ ملک میں انارکی پھیلنےکے اندیشے کے سبب مصطفےٰ کھر باقاعدہ ایک وفد لے کر لاڑکانہ پہنچے ۔ اور مسٹر ذوالفقار بھٹو کو صورت حال اور اس کے نتائج سے آگاہ کیا۔ اس پر بھٹو نے بذات خود اور سندھ کے پڑھے لکھے محبِ وطن طبقے نے ان تعصبانہ اور غیر انسانی رویوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے۔ اور پنجابیوں کی سیفٹی کی یقین دہانی کروائی لیکن اعتبار کھو دینے والے غیر سندھی عوام نے اندرونِ سندھ سے نقل مکانی شروع کردی۔ حیدرآباد میں ایک سیاسی شخصیت نواب مظفر نے پنجابی، مہاجر ، پٹھان متحدہ محاذ بنایا اور حیدرآباد میں الیکشن کے ذریعے منتخب ہوئے – اس وقت مہاجروں کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم نہیں بنی تھی لیکن یہ سارے عوامل کسی حد تک ایم کیو ایم کی تخلیق کا موجب ضرور ہیں۔ پنجابی، مہاجر ، پٹھان متحدہ محاذ تحریک کے بعد اندرونِ سندھ سے لوگ ہجرت کرکے حیدرآباد اور کراچی منتقل ہونا شروع ہو گئے۔ سہیل کے گھرانے کے افراد بھی نقل مکانی کرنا چاہتے تھے لیکن سہیل کی والدہ راضی نہ تھیں انہوں نے اپنے بیٹے کے انٹرمیڈیٹ کے امتحان سے پہلے کہیں بھی شفٹ ہونے سے انکار کر دیا۔ وہ سہیل کو پڑھائی کے دوران پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں کہ کہیں اس کی پڑھائی متاثر نہ ہو-
بالآخر بارہویں کا امتحان سہیل نے بہت اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ اس نے میڈیکل کالج کے داخلہ کا امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ امتحان دینے اپنے ماموں کےساتھ کراچی گیا تھا ۔ اور خدا کا کرم تھا کہ سر خرو لوٹا۔
اس کی ماں اور سب بہن بھائیوں نے لاڑکانہ کو خیرباد کہا اور کراچی کے لیے رختِ سفر باندھا۔ اور پھر وہیں سکونت اختیار کر لی۔ جبار نے انٹر پاس کرکے بی کام میں گورنمنٹ کالج لاڑکانہ میں داخلہ لے لیا۔ میڈیکل کا فورتھ ایئر کا امتحان پاس کرکے ابھی ففتھ ایئر کا پہلا ہفتہ ہی گزرا تھا کہ سہیل کو جبار کا خط ملا۔ اس میں جبّار نے سہیل کو لاڑکانہ آنے کی دعوت دی تھی اور جبّار نے لکھا تھا , اگلے جمعہ کو رحمان صاحب کی بیوہ سلیمہ کے ساتھ میرا نکاح ہے۔ ضرور آنا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے اور میں یہ خوشی اپنے یار کے بغیر منانا نہیں چاہتا۔ سہیل کو ایک دم دھچکا لگا۔ جبار صرف تیئیس چوبیس سال کا خوبصورت نوجوان تھا۔ سہیل حیران ہوا۔ رحمان صاحب کی بیوہ؟؟؟ سلیمہ آپا !! تین بچّوں کی ماں !!!
رحمان صاحب کی موت کے وقت وہ اکتیس بتیس سال کی تو لازمی رہی ہوں گی۔ ہاں شکل و صورت کی تو خیر کافی اچھی تھیں بلکہ حسین تھیں۔ سہیل جانتا تھا۔ انتقال کے دنوں میں ان کے گھر کے مختلف کاموں کے سلسلے میں بارہا سہیل کا ان کا سامنا بھی ہوا تھا لیکن بیچاری اس وقت تو غم میں اپنی سُدھ بدھ گنوائے ہوئے تھیں لیکن سہیل انہیں پہلے بھی کئی بار دیکھ چکا تھا۔ سہیل کے کزن خالد کی شادی میں رحمان صاحب کی پوری فیملی نے شرکت کی تھی سہیل کو آج بھی یاد تھا, گوری گلابی مائل رنگت , بڑی بڑی براون آنکھوں پر مسکراتا چہرہ ۔ مسکراتی تھیں تو گال پہ ڈمپل پڑتا تھا ۔ ریشمی براون بال خوبصورتی سے تراشے ہوئے کندھوں پہ پڑے تھے۔ لگتا ہی نہ تھا کہ ان کے تین بچے ہیں۔ غرارہ سنبھالتی ہوئی پوری محفل میں ستاروں کے درمیاں چاند کی مانند دمک رہی تھیں۔ یعنی چندے آفتاب چندے مہتاب کی مثل ان پر صادق آتی تھی۔
لیکن کتنی بھی خوبصوت ہوں ، اب چار سال بعد تو وہ پینتیس یا چھتیس سال کی ہو گئی ہوں گی۔ یہ جبار کو کیا ہوا۔ اپنے سے تقریباً بارہ سال بڑی عورت چاہے کتنی بھی خوبصورت ہو۔ تین بچوں کی ماں اور بیوہ سے شادی کرنے چلا تھا۔ کسی بے چاری اکیلی بیوہ عورت اور معصوم یتیم بچوں کا خیال رکھنا اور بات ہے لیکن جبّار کا سلیمہ سے شادی کرنے کا فیصلہ سہیل کو بہت بڑی بے وقوفی محسوس ہوئی.سہیل نے کالج سے ایک ہفتے کی چھٹی لی اور ماں کی اجازت سے لاڑکانہ روانہ ہو گیا۔ لاڑ کانہ سے کراچی کا بس کا سفر ان دنوں نو گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔ بس حیدرآباد کے بس اڈے پر کچھ زیادہ دیر رُک گئی ۔ لاڑکانہ پہنچتے پہنچتے دس گھنٹے ہو گئے ۔ بس سےاتر کر سہیل نے رکشا لیا۔ جبّار کے گھر پہنچتے پہنچتے رات کے گیارہ بج گئے۔ یہ دو منزلہ مکان تھا گھر کے نیچے والے حصے میں آگے کی جانب مردانہ حصّہ تھا تین کمرے پیچھے کی جانب تھے اگلے حصے میں بیٹھک جو کہ آج کل کے خوبصورت لیونگ رومز کو شرماتی تھی۔ اور دو کمرے مہمانوں کے لیے مخصوص تھے۔ جبّار اس کو ان کمروں میں سے ایک کمرے میں لے گیا ۔ ایک دیوار کے ساتھ دو کرسیاں رکھی تھیں اور دو مسہریاں کرسیوں کے دائیں اور بائیں طرف بچھی تھیں. اپنا بیگ ایک کرسی پر رکھ کر سہیل کمرے کے ملحقہ غسل خانے میں چلا گیا ۔ نہا دھوکر باتھ روم سے باہر آیا دیکھا کہ ایک مسہری پر جبار سو رہا تھا اور اس کے خراٹے سارے کمرے میں گونج رہے تھے۔ کمرے کے بیچ میں ایک میز پر ٹرے میں دو پلیٹیں رکھی تھیں ایک پلیٹ میں سالن اور دوسری میں کچھ روٹیاں، اور جگ اور گلاس پانی کے لیے۔ سہیل نے آہستگی سے کرسی اُٹھا کر میز کے پاس رکھی۔ دو چار لقمے حلق سے اُتارے۔ سفر کی تھکان سے اسے لگتا تھا کہ بالکل بھوک ہی نہیں ہے۔ کھانے اور ہاتھ دھونے سے فارغ ہو کر وہ دوسری مسہری پر اپنے لیے بچھائے ہوئے بستر پہ لیٹ گیا۔ نئی جگہ، نیا بستر پھر جبّار کے خراٹے۔ کافی دیر کروٹیں بدلتا رہا بالآخر اسے نیند نے آ گھیرا۔ آخر نو دس گھنٹے کا تھکا دینے والا سفر طے کرکے آیا تھا سو گہری نیند سویا۔ صبح آٹھ بجے جبّار کے جگانے پر آنکھ کھلی تو ایک دم گڑبڑا کر اٹھ بیٹھا, "یار تو نے فجر کے وقت نہیں اٹھایا میری نماز قضا ہو گئی” ۔
"یارمیرے ذہن میں نہیں رہا کہ تو کبھی نماز نہیں چھوڑتا”۔
میز پر چائے اور ناشتہ جس میں انڈے اور پراٹھے شامل تھے، رکھا تھا۔
"جلدی سے نہا دھو کر ناشتہ کر لو ۔ میں ذرا مولوی صاحب کے گھر جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا تھا مجھے صبح صبح یاد دہانی کرا دینا ۔ انہیں ہمارا نکاح پڑھوانا ہے نا۔ بس میں یوں گیا اور یوں آیا”۔ جبار نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا ۔ "ہاں راستے میں واپسی پہ پھول بھی لیتا آؤں گا۔ سہرے کا آرڈر میں نے کل ہی دے دیا تھا”۔ بات کرتے کرتے جبّار نے اپنے پشاوری چپل چڑھائے اور کمرے سے نکل گیا۔ سہیل غُسل کی نیت سے باتھ روم چلا گیا۔ نو بجے کے قریب وہ اپنے کپڑے استری کر رہا تھا کہ جبّار کمرے میں داخل ہوا۔ ایک بڑے سے اخبار میں پھول لپٹے ہوئے تھے جو اخبار کے کچھ حصّوں سے جھانک کر اپنی موجودگی کا ثبوت دے رہے تھے۔ گلاب کے پھولوں کی خوشبو پورے کمرے میں پھیلتی جا رہی تھی۔ "یار مولوی صاحب کو بتا کر آیا ہوں کہ ساڑھے دس بجے پہنچ جائیں۔ گھر والے بھی سب تیار ہو گئے بس اب تو فٹافٹ تیار ہو جا”۔
سہیل پہلے ہی نہا چکا تھا۔ اپنا نیا سوٹ اور نئی شرٹ جو اس نے خاص طور پر شادی میں پہننے کی نیت سے خریدے تھے، پہن لیے۔ تھوڑی دیر کے بعد جبّار بھی نہا دھو کر نئے کپڑے پہن کر تیار ہو گیا۔ جبّار میں خوبصورتی اور مردانہ وجاہت کوٹ کوٹ کے بھری تھی۔ کالج کے زمانے کا وہ گہری گہری کالی آنکھوں اور گندمی رنگت والا منحنی سا لڑکا اب کھلتے ہوئے سانولے رنگ بلکہ قدرے صاف رنگ اور بھرے بھرے چہرے اور جسم کے ساتھ خوبرو نوجوان بن چکا تھا۔ دُلہا بن کے تو اور خوبصورت اور وجیہہ لگ رہا تھا۔ بال بنانے کے بعد جبّار نے سہیل سے کہا، "یار یہ سہرا باندھنا نہیں آتا مجھے یہ تو تجھے ہی باندھنا ہو گا”۔
اسی وقت دروازے پر کھٹکا ہوا۔ سہیل نے جا کر دروازہ کھولا تو وصی اور جمیل دروازے پہ کھڑے تھے۔ سہیل کے پرانے کلاس فیلو اور بچپن کے دوست۔ سہیل ان سے گلے ملا۔ عجیب سی خوشی اور راحت محسوس ہوئی جیسے اپنے کسی بہت قریبی پیارے خونی رشتے سے مل کر ہوتی ہے۔ دوستی ایسا ہی عجیب رشتہ ہے پھر بچپن کے دوست اور سکول کے ہم جماعتی۔
جبّار نے آواز دے کر کہا "آ جاؤ یار اندر آ جاؤ” ۔ جمیل نے آتے ہی شور مچا دیا وہاں دُلہا کا انتظار ہو رہا ہے۔ مولوی صاحب نے مجھے تمہیں لینے کے لیے بھیجا ہے۔ جمیل نے گلاب کے پھولوں سے بنا سہرا اُٹھایا اور سہیل کو آواز دی "یار مدد کر سہرا بندھوانے میں”۔
سہیل نے ایک طرف سے پھولوں کی ڈوری پکڑی اور جمیل نے دوسرے کنارے سے ڈوری پکڑی۔ سہیل کہنے لگا "یار میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی ۔ سلیمہ سے یہ شادی کیوں کرنے چلا ہے۔ ٹھیک ہے شکل کی اچھّی ہیں وہ۔ لیکن یار اس سے عمر میں اتنی بڑی ہیں۔ تین تین بچّے ہیں۔ بیوہ ہیں”۔
وصی بھی فوراً بولا "یار اس کی مت ماری گئی ہے اس کو تو ایک سے ایک خوبصورت لڑکی مل سکتی ہے۔ تجھے تیرے اماں ابّا نے بھی نہیں سمجھایا” ۔
"یہ ان کی سنتا کب ہے ” جمیل بولا "لیکن یار بات تو صحیح ہے ، ابھی بھی وقت ہے ۔ نکاح نہیں ہوا ہے ابھی۔ کیوں تجھے آخر وہیں شادی کرنا ہے۔ تیرے لیے ہم اچھّی سی لڑکی ڈھونڈ دیں گے”۔
سہرا باندھتے باندھتے سہیل بولا ، "یار تیرے دماغ میں یہ خنّاس آ کہاں سے گیا؟”۔
جبّار نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے پہ آنے والی پھولوں کی لڑیوں کو اُٹھایا اور بولا، "یار میں پاگل نہیں ہوں ۔ تم نے سلیمہ کی بیٹی کو کبھی غور سے دیکھا ہے۔ کیا آفت چیز ہے” ۔
سہیل سہرے کی گرہ لگا چکا تھا۔ سہرا بندھ چکا تھا۔ وہ اُسے ہاتھ سے درست کر رہا تھا۔ جبّار کا جواب سُن کر ایک دم سُن ہو کر رہ گیا اور اس کے دونوں ہاتھ کسی کٹے ہوئے تنے کی طرح نیچے گر گئے.

Views All Time
Views All Time
807
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مہاجر

One thought on “خدا ترس

  • 05/09/2016 at 8:57 شام
    Permalink

    اس کہانی کو آفسانہ آخری لائن نے بنایا۔ بہت خوب آفسانہ ہے اگر اس سے غیر ضروری تفصیلات کو نکال دیا جائے۔ آج کا قاری جانتا ہے کوئٹہ کا موسم کیسا ہے۔ کراچی کا سفر کتنا لمبا اورتھکا دینے والا ہے ۔ کہانی پر نظرسانی کی جائے تو خوبصورت آفسانہ سامنے آئے گا۔۔۔جو میں نے سمجھا بتا دیا اگر غلط لگا تو پیشگی معافی۔۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: