Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جماعت اسلامی اور جدید سیاست

by دسمبر 30, 2016 سیاست
جماعت اسلامی اور جدید سیاست
Print Friendly, PDF & Email

اعتراض آتا ہے کہ کیا ہم مسلم لگ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور اے۔این۔پی جیسے ہو جائیں؟؟ عرض ہے کہ مسلم لیگ ن، پپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی وغیرہ جمہوری سیاسی جماعتیں ہیں ہی نہیں بلکہ موروثی کلب ہیں جن کی تمام تر سیاست کا دارو مدار کرپشن، جعل سازی، نوسربازی، دھونس، دھاندلی، نا انصافی، اقرباء پروری، لوٹ کھسوٹ، خرید و فروخت اور غنڈہ گردی سے عبارت ہے۔ کوئی لسانیت کا چورن بیچتا ہے توکوئی نسل و علاقے کا۔
مذھبی جماعتوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے بیشتر مذھبی لیڈر باپ دادا کی گدیوں پر قابض ہیں۔ بلاشبہ جماعت اسلامی ایسی خامیوں سے محفوظ ہے اور اگر جماعت اسلامی بھی یہی حرکتیں کرنے لگے اور لوگ جماعت سے بھی ایسی ہی سیاست کی توقع رکھتے ہوں تو پھر جماعت کی کشتی ہی کیوں؟ جو دیدہ زیب رنگین کشتیاں پانی کے بہاؤ پر بہہ رہی ہیں انھی میں کیوں نہ منتقل ہو جائیں؟
دراصل عوام الناس قدامت پسند اور شدت پسند طالبانیت نہیں بلکہ ایک ایسی دیانتدار ماڈرن اسلامی جمہوری تحریک چاہتے ہیں جو جدید دنیا کے بدلتے تقاضوں کے مطابق عوام کی رہنمائی کرسکے۔
جماعت اسلامی ابھی تک قدامت پرست مائنڈ سیٹ کے ساتھ ابو بن ادھم رح کے دور میں جی رہی ہے۔ اگر مائینڈ سیٹ کی تبدیلی اور جدید ویژنری سوچ کا مطالبہ کیا جاۓ تو جواب ملتا ہےکیا ہم "اسلام” چھوڑ دیں؟ تو جواب میں ہم بھی کہتے ہیں کہ کیا طیب اردغان، مہاتیر محمد، راشد التنوشی نے "اسلام” چھوڑ دیا؟ جناب اسلام نہیں ملائیت چھوڑ دیجئے ۔
کیا عام ووٹر کی نظر میں جماعت اسلامی بھی جے۔یو۔آئی، جے یو پی، سنی تحریک، وحدت المسلین اور جمعیت اہلحیث جیسی مذہبی ملاں جماعت نہیں ہیں؟ کیا ملاں پارٹی کا ٹیگ لگوا کر ایسے معاشرے میں سیاست ممکن ہے جہاں سیاست فرقہ اور مسلک کی آلودگیوں میں لتھڑی ہوئی ہو؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے دعوت، درس و تدریس اور خدمت کا کام کیا جاۓ جبکہ سیاست کے لیے "اسلامک فرنٹ” طرز کا کوئی پلیٹ فارم ہو”؟ اور یہ فرنٹ جماعت اسلامی کی شوری اور عاملہ کو جواب دہ ہو۔۔
پھر اعتراض آتا ہے کہ "اسلامک فرنٹ” کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے مگر کوئی بھی سقراط اسلامک فرنٹ کی ناکامی کی وجوہات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اسلامک فرنٹ کی ناکامی کے بنیادی اسباب یہ تھے کہ جب قوم واضع طور پر پپلزپارٹی اور اینٹی پپلزپارٹی میں منقسم تھی ایسے موقع پر اسلامک فرنٹ کے قیام کا وقت ہی نا مناسب تھا۔ قوم کی اس تقسیم کی اصل ذمہ دار بھی جماعت اسلامی کی لیڈرشپ ہی ہے جس نے 1971 سے 1993 تک سیاسی انداز میں پپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ مذھب کو ڈھال بنایا۔
فتوی بازی، نفرت، حقارت، جذباتیت اور مذھبی بنیادوں پر چھوٹی و بڑی برائی کے غیر سیاسی و غیر منطقی فلسفے نے پپلزپارٹی کو تو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچایا البتہ جماعت اسلامی کے ورکرز، ووٹرز اور ہم خیال رائٹرز بڑی برائی کا روستہ روکنے کے چکر میں برائی اور کرپشن کے باپ کے ساتھ جا کھڑے ہوۓ۔۔
عام ورکرز اور ووٹر تو گئے ہی جماعت اسلامی کے اہم ترین راہنماؤں مولانا گوھر الرحمن، نعیم صدیقی، مدیر تکبیر صلاح الدین، حکیم سہارنپوری، مصطفی شاہین سمیت سینکڑوں غیر سیاسی سوچ کے مالک ریجڈ مولانا صاحبان قاضی صاحب کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ۔
رہی سہی کسر دوبار کے الیکشن بائیکاٹ نے پوری کر دی۔
مکرر عرض ہے کہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم کو دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور خدمت خلق کے کاموں کے لیے مختص کیا جاۓ جبکہ سیاسی سرگرمیوں کے لئے ایک ایسے فرنٹ کا قیام عمل میں لایا جاۓ جہاں ہر مکتبہ فکر کے دیانتدار لوگوں اور جماعتوں کو اکٹھا کر کے "ترازو” کے انتخابی نشان سے الیکشن میں حصہ لیا جاۓ۔
۔۔۔۔۔۔
جماعت اسلامی محض ایک "اصلاحی تحریک” نہیں بلکہ سیاسی جماعت بھی ہے۔ بلاشبہ درس و تدریس، تحریرو تقریر، خدمت خلق اور تربیتی پروگرامات کے ذریعے لوگوں کو انکے رب سے جوڑنا اور انکی اصلاح کرنا یقینا اللہ پاک کے نزدیک بہت بڑی کاوش اور اجر عظیم ہے اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری بھی رہنا چاہئیے لیکن مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اگر آپ اسلام کے جمالات و کمالات سے، زبانی کلامی محنت سے 2 افراد کو متاثر کرتے ہیں تو تمام تر طاقت سے سرشار اور حکومتی وسائل سے لیس اقتدار پر قابض کرپٹ شیطانی ٹولہ اتنے ہی وقت میں 2 لاکھ افراد کو برباد کرتا ہے۔۔۔ جب تک ڈرائیونگ سیٹ آپ کے پاس نہیں آپ 70 سال تو کیا 70 ہزار سال بھی لگے رہیں نہ آپ عوام کی اصلاح کر سکتے ہیں، نہ عوام کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کر سکتے ہیں، نہ غریب، پسماندہ اور ضرورت مند افراد کو زیادہ عرصہ انقلاب کے خشک چورن پر زندہ رکھ سکتے ہیں
نہ امربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے سکتے ہیں، نہ حدود و قصاص کا نفاذ کر سکتے ہیں، نہ سودی نظام کے خاتمے کی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ ہی اقامت صلواۃ و ایتاء زکواۃ کا نظام قائم کر سکتے ہیں۔۔
اس سب کے لئے سیاست و اقتدار لازمی ہے اور اقتدار کے حصول کے لئے اپنے اصولی، اخلاقی اور دینی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو ہر طبقہ فکر کے لئے قابل قبول بنانا ہی دینی بصیرت اور سیاسی فہم و فراست ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ داڑھیاں منڈوا کر گلے میں گیٹار لٹکا دیں۔
انتخابی جمہوریت میں مولانا منور حسن، مولانا حمداللہ اور مولانا طارق جمیل کا ووٹ اتنی ہی وقعت رکھتا ہے جتنی ہمایوں سعید، مائرہ خان اور مہوش حیات کے ووٹ کی وقعت ہے۔۔۔ لہذا ضروری ھے کہ قبل از وقت شریعت اور اسلام کے نعرے لگانے اور لوگوں کو مذھبی اور غیر مذھبی سیاست میں الجھانے کے بجاۓ عوام الناس کو کرپشن، بیڈ گورننس، مہنگائی، کرپٹ سیاست زدہ اداروں،غربت، ناانصافی، جعلی انتخابی نظام، وڈیرہ شاہی کے خلاف اور عوامی حقوق کی بازیابی کے لیے متحد کریں اور جب اقتدار نصیب ہو جاۓ تو عوامی فلاح و بہبود کی تدابیر کے ساتھ ساتھ قرارداد مقاصد اور آئین کی روشنی میں بتدریج اسلامائزیشن بھی کریں۔

پپلزپارٹی طبعی عمر پوری کر چکی ہے، نواز شریف ڈھلوان کے سفر میں ہیں اور پی ٹی آئی کی زندگی بس عمران کی زندگی تک ہے۔۔
لہذا روایتی مذھبی سیاست کے خول سے نکل کر عوامی انقلابی سیاست کی طرف قدم بڑھانے کا سنہری موقع ہے۔

تحریر: سردار جمیل خان

Views All Time
Views All Time
462
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   گوادر کی بندرگاہ نئی سیاسی محاذ آرائی کا مرکز
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: