Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آوازیں اٹھتی رہیں گی

by اپریل 15, 2018 قلم کار
آوازیں اٹھتی رہیں گی
Print Friendly, PDF & Email

مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمرباوجوہ نے ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ میں لڑتے ہوئے شہید ہوجانے والے پاک فوج کے شہداء کے ورثاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب فاٹا میں امن قائم ہورہا ہے تب ایک تحریک شروع کرادی گئی ہے۔
ان کا اشارہ واضح طور پہ پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب تھا۔ اور انہوں نے دبے لفظوں میں اس تحریک کو ‘سازش’ اور ‘بیرونی ایجنڈے ‘ کی پاسدار کہا ہے۔
اس سے پہلے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ اور پاک فوج کے ترجمان نے بلوچستان پہ جب بھی گفتگو فرمائی ہے تب تب انہوں نے وہاں سے اٹھنے والے احتجاج اور تنقید کو سازش اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
میں اگر پاکستان کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کی عسکری پرت کا مؤقف برسبیل تذکرہ مان بھی لوں تو کیا پاکستان کے شورش زدہ علاقوں سے جبری طور پہ لاپتہ ہونے اور ماورائے آئین و قانون مارے جانے والوں کے متاثرہ خاندانوں کے مطالبات سے صرف نظر کرسکوں گا؟

صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ،چیف آف آرمی سٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی ایم آئی اور سپریم کورٹ آف پاکستان و چاروں صوبوں کی ہائیکورٹ کے سربراہان سب پہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے اب تک ‘جبری گمشدگان’ کی بازیابی کے حوالے سے متاثرہ خاندانوں کو مطمئن کیوں نہیں کیا؟ جن متاثرہ خاندانوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے کسی بھی رکن کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے،اس پہ غیر جانبدارانہ تحقیقات اب تک کیوں نہیں ہوئیں؟

اگر لاپتہ افراد بارے تسلی بخش تحقیقات کروائی گئی ہوتیں،پاکستان آرمی ،ایف سی، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور ان کے رشوت ستانی میں ملوث ہونے، لوگوں سے بدسلوکی وغیرہ پہ غیرجانبدار تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا ہوتا اور اس کمیشن کی رپورٹ کو شائع کیا گیا ہوتا تو یقینی بات ہے کہ پاکستان کے عوام منظور پشتین یا ماما قدیر سمیت ان سب لوگوں کا احتساب کرتے جو انٹرنیشنل ثالثی جیسے مطالبے کرتے ہیں۔

جب تک جبری گمشدگان اور ماورائے عدالت قتل ہونے والوں اور ایسے ہی سیکورٹی ایجنسیز کے اہلکاروں کی جانب سے مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے ایشوز پہ غیرجانبدارانہ تحقیقات نہیں ہوجاتیں اور ذمہ داران کا تعین نہیں ہوجاتا،اس وقت تک لوگوں کو کیسے سمجھایا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح کا مطالبہ کریں اور کس طرح کا مطالبہ نہ کریں؟

سیدھی بات ہے کہ ایک طاقتور بااختیار عدالتی کمیشن بنایا جائے جو فاٹا،کے پی کے،سندھ، بلوچستان سے آنے والی شکایتوں کی تحقیقات کرے۔ایک متعینہ مدت تک سب جبری گمشدگان کی برآمدگی کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔جب تک وہ ایشوز موجود ہیں جن کو پی ٹی ایم، بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز، سندھ وائس فار مسنگ پرسنز، کمیٹی برائے رہائی شیعہ مسنگ پرسنز اور ديگر فورم اٹھارہے ہیں تب تک سازش اور ایجنڈے جیسی خبروں پہ عوام کی اکثریت یقین نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے:   شہید پھولوں کی داستان،سانحہ پشاور ! - اختر سردار چودھری

میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی ایم سمیت جتنی بھی اس وقت انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کھڑی ہونے والی تحریکیں ہیں ان تحریکوں کو مذہبی تکفیری دہشت گرد اور ان کے نظریاتی ساتھی ہوں،یا پھر عالمی لبرل کمرشل مافیا کے پاکستانی لبرل کمرشل دلال ہوں یا بھارت و افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پراکسی ہوں آڑ بناکر اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے میں اس لیے کامیاب ہوتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کی عسکری غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کی قیادت ‘چھوئی موئی’ بنی ہوئی ہے۔وہ اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں اور ننگ انسانیت کردار ادا کرنے والے ‘بدمعاشوں’ کو سزا دینے کا کوئی ‘دکھائی دینے والا’ میکنزم بنانے میں ابتک کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

پاکستان کے اندر ایک عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کے عسکری اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر جو اہلکار آئین و قانون کے خلاف عمل کرتے ہیں،ان کے خلاف کوئی بھی کاروائی نہ ہونے کی وجہ ان اداروں کا دباؤ ہے۔ یہ تاثر ٹھیک ہے یا غلط ہے اس کا تعین اس لیے نہیں ہوپارہا کہ آج تک پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور سیکورٹی ادارے کوئی ایک بھی ایسا کیس عدالتوں میں لیکر نہیں آئے جس پہ شفاف ٹرائل ہوا ہو اور عدالتی شفاف ٹرائل سے یہ ثابت ہوگیا ہو کہ فلاں بلوچ،فلاں پشتون، فلاں پنجابی، فلاں سرائیکی، فلاں شیعہ، فلاں سنّی ، فلاں سندھی ‘واقعی’ راء،سی آئی اے،ڈی این ایس کے پے رول پہ کام کررہا تھا۔

ابھی تک کلبھوشن سنگھ والا معاملہ ابہام اور شکوک کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے۔

لوگوں کا تواتر سے جبری گمشدہ بنایا جانا، مشکوک مڈبھیڑ میں ہلاک کیا جانا اور آئین و قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے سے گریز کیا جانا لوگوں کے اداروں اور ان کی قیادت پہ اعتبار اور ساکھ کو برباد کررہا ہے۔

کیا پاکستان کی سویلین،فوجی اور عدالتی قیادتیں بتاسکتی ہیں کہ آرمی پبلک اسکول پشاور پہ حملے میں جو بظاہر سیکورٹی لیپس تھا اس بارے تحقیقات آج تک پبلک کیوں نہیں ہوئیں؟

شہداءفاؤنڈیشن آرمی پبلک اسکول پشاور کی جانب سے تحقیقات پبلک کرنے اور ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان کو گرفتار کرکے مقدمہ چلانے کے مطالبات کو پورا کرنے میں کونسی روکاوٹ حائل ہے؟

سویلین حکومت کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ جہادی و تکفیری عسکریت پسند تنظیموں اور ان کی قیادت کو مین سٹریم کرنے کا ایجنڈا آئی ایس آئی کا پروجیکٹ ہے۔تو فوجی قیادت اور ڈی جی آئی ایس آئی اس حوالے سے صاف اعلان کیوں نہیں کرتے؟

پاکستان کی اس وقت جتنی بھی پارلیمانی جماعتیں ہیں ان کی قیادت کا مؤقف بظاہر یہ ہے کہ بلوچستان، فاٹا سمیت پورے ملک میں جہاں شورش اور تصادم ہے وہاں کنٹرول آرمی اور اس کے ذیلی اداروں کے پاس ہے اور وہ کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔جبکہ پاکستان کی آرمی کا مؤقف یہ ہے کہ وہ حکومت کے کہنے پہ یہ سب کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔تو ان علاقوں کے عوام کو ایک طرح سے سیاست دانوں، فوجیوں، ججوں نے جواب دے دیا ہے۔ایسے میں اگر وہ اپنی راہ کا تعین خود کرتے ہیں تو پھر اس راہ پہ اعتراض کرنے سے پہلے ‘ذمہ داری’ بھی تو لی جائے۔

یہ بھی پڑھئے:   بند گلی - مہ جبین آصف

معاملہ پیچیدہ اور گھمبیر اس لیے بن رہا ہے کہ سب ‘کریڈٹ’ لیتے ہیں اور جہاں مسئلہ پیدا ہوجائے اس مسئلہ کی ذمہ داری پہ سب بھاگ جاتے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ اگر کل کو شام میں کام کرنے والی ‘وائٹ ہیلمٹ’ جیسی تنظیم بن گئی اور اس پہ امریکی-برطانوی-فرانسیسی کمرشل لبرل مافیا کا غلبہ ہوگیا اور افغانستان والوں نے اس تحریک کے اوپر قابو ڈال کر اسے پھر سے ‘آزاد پشتونستان’ جیسی کوئی تحریک بناڈالا تو اس کی سب سے بڑی ذمہ دار موجودہ سویلین اور فوجی دونوں قیادتیں ہوں گی۔

میں پاکستان کی دہشت گردی سے متاثرہ مذہبی و نسلی کمیونٹیز سے بھی کہتا ہوں کہ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے اندر موجود بظاہر تکفیری اور نسل پرستانہ شاؤنسٹ رجحانات پہ اپنی تنقید بلاجھجک جاری رکھیں۔ مںظور پشتین اور علی وزیر جیسے لوگ اگر تحریک طالبان پاکستان اور تکفیری دیوبندی فاشزم کے علمبرداروں کو کمیوفلاج کرنے کی کوشش کریں جیسے انہوں نے ابتک اپنے بیانیہ میں ایک ابہام رکھ کر شکوک پیدا کیے ہیں تو اس پہ کھل کر تنقید کریں لیکن وہ پاکستان کی پشتون،بلوچ آبادی کے اندر ہونے والی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور دوران آپریشن اور مابعد آپریشن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں جیسے معاملات کی سنگینی کے خلاف اپنے مؤقف میں لچک مت پیدا کریں۔

پاکستان کی فوجی قیادت اپنے لیے حمایت اور یک جہتی کی طلبگار ہے تو اسے اپنے خلاف پیدا ہونے والی حقیقی شکایات پہ کان دھرنا ہوں گے اور جو کالی بھیڑیں ذاتی مفادات بٹورنے کی خاطر ان کے ڈسپلن کی آڑ لیکر غلط کام کررہی ہیں ان کے خلاف ‘نظرآنے والی’ کاروائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔جتنا جلدی اس پہ عمل کرلیا جائے اچھا ہوگا۔

 

Views All Time
Views All Time
152
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: